Skip to main content
NEW

✍️

وہ کب سے سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی، دونوں کُہنیاں گھٹنوں پر ٹکی ہوئی تھیں اور اُنہیں پر دونوں بازو رکھے وہ گالوں پر ہاتھ رکھے جاتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔۔ ثمینہ سمجھ گئیں کہ آج پھر وہ اپنے بابا کو یاد کررہی ہے۔۔۔ “مِنہا!!”۔۔۔ اُنہوں نے اُس کے برابر بیٹھ کر اسے پُکارا۔۔۔ … Read more

NEW

✍️

“مجھے پتاہے آپ رات والی بات کی وجہ سے ناراض ہیں۔۔۔۔سوری آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔” وہ میٹھےلہجے میں اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو ہلانے لگی صالم کا غصہ ایک سیکنڈ میں ہوا ہوا ۔۔۔۔ “اوکے۔۔۔اور تم بھی مجھے سر مت بولا کرو۔۔۔”مسکرا جر اس سے کہتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ پر رکھے اس کے … Read more